تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شام کے شمال مشرقی علاقوں میں کردوں کے خلاف ترکی کے فوجی آپریشن میں نیشنل آرمی کے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد ترک فوجوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ جنگجوؤں کی اس فوج کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

نیشنل آرمی کون ہے؟

شام میں حزب مخالف کے کئی جنگجو جو 2011 سے صدر بشار الاسد کے خلاف برسر پیکار ہیں، ان میں سے کئی گروہوں کو ترکی سے مالی اور فوجی مدد ملتی تھی۔

ان گروہوں کو ایک ریگولر آرمی کی طرح ایک کمانڈر کے نیچے فری سیریئن آرمی کی چھتری تلے اکٹھا کیا گیا۔

ایسا دو ہزار سولہ میں ترک فوج کی جانب سے شام کے سرحدی علاقوں میں کردوں کے خلاف فرات شیلڈ نامی فوجی آپریشن سے پہلے کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ترک آپریشن: کیا دولتِ اسلامیہ پھر سر اٹھا سکتی ہے؟

ترکی بمقابلہ شامی کرد: ماضی، حال اور مستقبل

ترکی کی شام میں زمینی کارروائی کا آغاز

تمام گروہوں کو ایک چھتری کے نیچے اکٹھے کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ان کے ساتھ رابطوں میں آسانی ہو اور وہ آپس میں لڑائیوں سے باز رہیں۔

لیکن 2018 میں ترکی کی جانب سے شام میں عفرین میں آپریشن شروع کرنے سے پہلے حامی جنگجوؤں کے پہلے سے بھی بڑی گروہ کو سیرئین نیشنل آرمی کے بینر تلے اکٹھا کیا گیا۔

اسی طرح ادلیب میں ترک کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کا ایک بڑا گروہ نیشنل لبریشن فرنٹ کے نام سے قائم تھا۔

4 اکتوبر کو، شام میں کردوں کے خلاف ترکی کے فوجی آپریشن سے پانچ دن پہلے سیرئین نیشنل آرمی اور ادلب میں برسرپیکار نیشنل لبریشن فرنٹ کو ملا کر ایک نئے نام نشینل آرمی کے بینر تلے اکٹھا کر دیا گیا۔

اس نیشنل آرمی کی سربراہی جنرل سلیم ادریس کے سپرد ہے جو فری سیرئین آرمی کے پہلے کمانڈر تھے اور ان کے ترکی کی حکومت کے ساتھ قریبی مراسم ہیں۔

نیشنل آرمی میں کتنے جنگجو ہیں؟
تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سیریئن نینشل آرمی کے عفرین اور فرات میں چالیس ہزار جنگجو ہیں۔ یہ جنگجو اس وقت سے ان علاقوں میں موجود ہیں جب ترک فوج نے وہاں آپریشن کیے تھے۔

ادلب میں نیشنل لبریشن فرنٹ کے پاس 70 ہزار جنگجو موجود ہیں۔

نئی آرمی میں چالیس ہزار جنگجو سیرئین نیشنل آرمی سے شامل ہوئے ہیں جبکہ کچھ کا تعلق ادلب میں موجود نیشنل لبریش فرنٹ سے ہے۔ نیشنل آرمی کے جنگجوؤں کی صحیح تعداد واضح نہیں ہے۔ البتہ ترکی کے سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی کے مطابق نیشنل آرمی 60 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔

نیشنل آرمی کے ایک کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ آپریشن کے پہلے مرحلے میں چالیس میں سے صرف چودہ ہزار جنگجوؤں کو شمال مشرقی شام کی سرحد پر تعینات کیا گیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ جوں جوں فوجی آپریشن آگے بڑھے گا مزید جنگجوؤں کو شامی سرحد پر تعینات کر دیا جائے گا۔

ابھی تک ادلب سے کسی جنگجو کو سرحد پر تعینات نہیں کیا گیا ہے۔

ادلب کا ایک جیش الاسلام نامی شدت پسند گروہ ترک فوج کے ہمراہ کردوں سے لڑنے پر تیار ہے۔ البتہ یہ گروہ نیشنل آرمی کا حصہ نہیں ہے۔

نیشنل آرمی میں کون سے گروہ شامل ہیں؟

نیشنل آرمی میں تیس مسلح گروہ شامل ہیں جن کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

چار بڑھے گروہو ں میں سے سلطان مراد اور فتح سلطان محمود بریگیڈ ترکی کے وفادار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Image caption نیشنل آرمی کے 14 ہزار جنگجوؤں کو شام کی شمال مشرقی سرحد پر تعینات کیا گیا ہے

اس کے علاوہ دو بڑے عرب گروپ، حمزہ اور مصتنصر باللہ بریگیڈ بھی نیشنل آرمی کا حصہ ہیں۔ ان دونوں گروہوں کو امریکہ اور ترک فوجیوں نے مل کر 2015 میں تربیت اور اسلحہ فراہم کیا تھا۔

جب ماضی میں ترکی نے شام میں فوجی آپریشن کیے تو اس وقت ان دونوں مسلح گروہوں نے ترک فوج کی مدد کی تھی۔

نیشنل آرمی میں کرد جنجگوؤں کا ایک چھوٹا دستہ بھی شامل ہے جس میں 350 کرد ہیں۔ اس میں شامل بعض افراد شام کے شمال مشرق سے اس وقت بھاگ کر آئے تھے جب وہاں سیرئین ڈیموکریٹک فورسز نے قبضہ کر لیا تھا۔

ترکی نے بدھ کو اسی ایس ڈی ایف کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا ہے۔

نیشنل آرمی کے جنگجوؤں کا ترکی کے آپریشن میں کیا کردار ہے؟

نیشنل آرمی کے چودہ ہزار جنگجوؤں کو شمال مشرقی سرحد پر تعینات کیا گیا ہے۔ جنگجوؤں کی تین کور ترکی کے زیر کنٹرول علاقوں میں موجود ہیں اور انھیں سرحدی قصبے تل عبید میں بھیجے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ان میں کچھ جنگجو سرحد کے دوسرے حصوں پر موجود ہیں اور وہ ترک فوج کے حکم کے منتظر ہیں۔

جب ترکی کے فوجی بدھ کو شام کے علاقے میں داخل ہوئے تو نیشنل آرمی کے کئی کمانڈرز ان کے ہمراہ تھے کیونکہ وہ علاقے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

ترکی کے دو سابقہ فوجی آپریشنز کے بعد ان جنگجوؤں کو ان علاقوں میں رکھا گیا جنہیں دولت اسلامیہ سے خالی کروایا گیا تھا۔

عفرین اور جرابلس میں موجود جنگجوؤں کے کمانڈر کے خیال میں ان کا کردار علاقے میں فوجی آپریشن کے بعد وہاں استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

ان گروہوں کے ذمہ دولت اسلامیہ کے وہ سینکڑوں جنگجو بھی ہیں جنھیں پکڑ کر جیل میں ڈالا گیا تھا۔

عفرین کے آپریشن کے بعد ترکی کے حمایت یافتہ ان جنگجوؤں پر لوگوں کو لوٹنے اور عام شہریوں کو قتل کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ان الزامات کے بعد ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم کلین نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔