تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption ماسوائے اینٹارکٹیکا کے کووِڈ نائنٹین نے ہر برِاعظم کو متاثر کیا ہے اور ہمیں یہ پہلے ہی بھانپ لینا چاہیے تھا

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے بارے میں، جو کووِڈ 19 کے نام سے جانی جاتی ہے، پہلے سے اندازہ کر لینا اس سے زیادہ آسان نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ دعوٰی میں اپنی رپورٹنگ کی بنیاد پر کر رہا ہوں۔

اکتوبر 2019 میں، میں نے کورونا وائرس کی ایک فرضی عالمی وبا کے بارے میں ایک سِمیولیشن یا تمثیل کا مشاہدہ کیا تھا۔ اسی طرح سنہ 2017 کے موسم بہار میں، میں نے اسی موضوع پر ٹائم میگزین کے لیے ایک مضمون لکھا تھا۔ رسالے کے سرِ ورق پر تحریر تھا: ’خبردار: دنیا ایک اور عالمی وبا کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

اس کا مطلب بالکل یہ نہیں ہے کہ میں دوسروں سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتا تھا۔ پچھلے پندرہ برس میں ایک ایسی عالمی وبا کے بارے میں بہت سے مضامین اور قرطاسِ ابیض شائع ہوئے ہیں جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ ہمارے نظام تنفس کو متاثر کرنے والا ایک نیا مرض پھیلنے والا ہے۔

بس یہ معلوم نہیں تھا کہ کب؟ سنہ 2018 میں بی بی سی فیوچر میں ہم نے لکھا تھا کہ فلو کی طرح کی ایک عالمی وبا بس وقت کی بات ہے، اور یہ کہ دنیا میں لاکھوں غیردریافت وائرس موجود ہو سکتے ہیں۔

ایک ماہر نے ہمیں بتایا تھا ’میرے خیال میں اگلی عالمی وبا کے ایک نئے وائرس سے پھیلنے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔‘

کروڑوں جانیں لینے والے ہسپانوی فلو سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟

کیا بنی نوع انسان کے لیے یہ آخری صدی ہے؟

پانچ چیزیں جو فوج عالمی وبا سے مقابلے کے لیے کر سکتی ہے

انسان جانوروں سے بیماریوں کا شکار کیسے ہوتے ہیں؟

سنہ 2019 میں امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومین سروسز نے عالمی وبا کے بارے میں ایک مشق کی تھی جس کا نام ’کرِمسن کنٹیجیئن‘ تھا، اس میں فلو کی ایک ایسی عالمی وبا کا تصور پیش کیا گیا تھا جو چین سے شروع ہو کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس تمثیل میں پیشگوئی کی گئی تھی کہ اس مرض سے صرف امریکا میں پانچ لاکھ چھیاسی ہزار ہلاکتیں ہوں گی۔

چھ اپریل تک دنیا بھر میں بارہ لاکھ افراد سے زیادہ لوگ کووِڈ نائنٹین سے متاثر ہو چکے تھے جبکہ مرنے والوں کی تعداد ستّر ہزار تک پہنچ چکی تھی، اور یہ وائرس سوائے اینٹارکٹیکا کے ہر برِاعظم میں پھیل چکا تھا۔ درحقیقت گیارہ مارچ کو عالمی ادارۂ صحت کے اعلان سے پہلے ہی یہ عالمی وبا بن چکی تھی۔ ہمیں پہلے سے اس کا اندازہ ہو جانا چاہیے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption سنہ 1918 میں پھیلنے والے انفلوئنزا کی وبا کے سبب دنیا بھر میں پانچ سے دس کروڑ افراد ہلاک ہو گئے تھے

کووِڈ نائنٹین ایک پرانے اور جانے پہچانے دشمن کی واپسی ہے۔ پوری تاریخ میں اتنی ہلاکتیں کسی اور چیز سے نہیں ہوئی ہیں جتنی وائرس، بیکٹیریا اور پیراسٹ سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے ہوئی ہیں۔ نہ تو زلزلے جیسی قدرتی آفتوں سے اتنے لوگ مارے گئے ہیں اور نہ ہی جنگوں کے سبب۔

اجتماعی قاتل

مچھر سے پھیلنے والی ملیریا کی مثال لیجیے۔ یہ ہزاروں سال سے انسان کا پیچھا کر رہا ہے، اور اگرچہ پچھلے بیس برس کے دوران اس سے ہونے والی ہلاکتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، پھر بھی اس کی وجہ سے ہر سال پانچ لاکھ انسان لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔

گزشتہ ہزاریے میں وبائیں اجتماعی قاتل بن کر آئی ہیں، اور ان کی وجہ سے جس پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں اس کا تصور ہم آج کوروناوائرس کے دور میں بھی نہیں کر سکتے۔

چھٹی صدی عیسوی میں جسٹینئن پلیگ یعنی طاعون سے تقریباً پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوگئے تھے، جو شاید اس وقت دنیا کی نصف آبادی کے برابر تھا۔ پھر 14ویں صدی میں بلیک ڈیتھ یا کالی موت کہلائے جانے والے طاعون کی وجہ بیس کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔

20ویں صدی میں چیچک کی وجہ سے تقریباً تیس کروڑ ہلاکتیں ہوئیں، حالانکہ اس مرض کے خلاف ایک مؤثر اور دنیا کی پہلی ویکسین سنہ 1796 سے دستیاب تھی۔

پانچ سے دس کروڑ افراد سنہ 1918 میں انفلوئنزا کی عالمی وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، یہ تعداد اسی دوران لڑی جانے والی پہلی جنگِ عظیم میں ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔ اس وبا سے روئے زمین پر ہر تین میں سے ایک شخص متاثر ہوا تھا۔

ایچ آئی وی کی عالمی وبا اب بھی موجود ہے اور اس کی کوئی ویکسین بھی نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی سے تین کروڑ بیس لاکھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ ساڑھے ساتھ کروڑ افراد اس میں مبتلا ہیں، جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ اعداد و شمار اس لیے حیران کن ہیں کہ آج تاریخ کے اسباق میں وباؤں کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ جبکہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ یہ زندگی کی تلخ حقیقتیں تھیں۔ ان امراض کا شکار ہونے والے افراد کی یادگاریں کم ہی بنی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption پولیو ویکسین نے، جس پر اس لیبارٹری میں سنہ 1950 میں تحقیق کی گئی تھی، تقریباً دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ کر دیا۔ اس مرض سے لاکھوں افراد ہلاک یا عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے تھے

مؤرخ ایلفریڈ کراسبی نے سنہ 1918 میں پھیلنے والے فلو کی وبا پر'امریکاز فارگاٹن پینڈیمِک' کے نام سے کتاب لکھی۔ یہ کتاب لکھنے کی تحریک انھیں اس وقت ملی جب انھیں اس عالمی وبا پر تحقیق کے دوران پتا چلا کہ اس سے امریکا میں سنہ 1917 کے مقابلے میں اوسط عمر 51 برس سے گھٹ کر 39 برس ہو گئی تھی۔ اس کمی کا سبب ایک ایسا وائرس تھا جس کی اپنی جسامت 120 نینومیٹر سے زیادہ نہ تھی (نینومیٹر ایک میٹر کے ایک اربویں حصے کے برابر ہوتا ہے)۔

وائرس کو حاصل فوقیت

جراثیم اس لیے اجتماعی قاتل بن جاتے ہیں کیونکہ ان میں اپنی آبادی تیزی سے بڑھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ ہی فرق انھیں انسان کو لاحق دوسرے خطرات سے ممتاز کرتا ہے۔ ہر چلنے والی گولی کا کوئی چلانے والا اور کوئی نشانہ ہوتا ہے۔ ہر قدرتی آفت ایک علاقے یا خطے تک محدود ہوتی، مثلائ چین میں آنے والا زلزلہ براہ راست برطانیہ کو متاثر نہیں کرے گا۔

مگر جب کوئی وائرس، جیسا کہ کوروناوائرس، کسی کو لگ جاتا ہے تو متاثرہ شخص کا جسم وائرس پیدا کرنے والی فیکٹری بن جاتا ہے۔ تاہم بیکٹریا میں سازگار ماحول میسر آنے پر خود کو بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔

ایک وبائی جرثومے کی وجہ سے پیدا ہونے والی علامات، جیسے چھینکیں، کھانسی یا خون کا رساؤ، اسے اگلا اور پھر اس سے اگلا میزبان بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ وائرس کی اس متعدی صلاحیت کو R0 میں ناپا جاتا ہے، یعنی یہ کہ کتنے افراد کو متاثر کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ (اِمپیریل کالج لندن نے اس نئے کوروناوائرس کے R0 کا تخمینہ 1.5 سے 3.5 لگایا ہے۔ اور انسان چونکہ آپس میں ہاتھ ملانے سے لے کر جنسی مباشرت تک میل جول رکھتے ہیں لہذا جراثیم بھی ان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔

ایسے میں یہ امر باعث تعجب نہیں کہ فوجیں طویل عرصے سے مرض کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ یہ بھی حیران کن نہیں کہ جنگی معرکوں کے مقابلے میں امراض سے زیادہ سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔ جراثیم ایک انتہائی سستا ہتھیار ہے جو اپنے شکار کے ذریعے شکار در شکار کرتا چلا جاتا ہے۔

امراض کے خطرے اور بعض دوسرے حقائق نے انسانی ترقی اور توسیع کو لگام لگا رکھی تھی۔ انیسویں صدی کے آغاز پر اوسط عالمی عمر محض انتیس برس تھی۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ لوگ لمبے عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتے تھے، بلکہ بہت سے بچپن میں بیماریوں کی وجہ سے، زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے سبب یا پھر زخموں کے مندمل نہ ہونے سے ہلاک ہو جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption گزشتہ 50 برس کے دوران دنیا کی آبادی دگنی ہوگئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب زیادہ لوگوں کے بیمار پڑنے یا دوسروں کو بیمار کرنے کا خدشہ بھی بڑھ چکا ہے

شہری آبادی کا توازن صرف دیہی علاقوں سے ہجرت کی وجہ سے قائم رہتا تھا۔ نقل مکانی کرنے والے یہ لوگ شہروں میں بیماریوں سے ہلاک ہو جانے والوں کی جگہ لے لیتے تھے۔ حفظانِ صحت کے اصولوں، ویکسین کی ایجاد اور اینٹی بایوٹِکس نے یہ توازن بدل کر رکھ دیا ہے۔

اس فتح نے ہمیں جدید دنیا سے، جس میں ہم آج رہ رہے ہیں، روشناس کروایا۔

بہتر عہد

یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ اس جنگ میں ہمیں بظاہر کتنی جلدی کامیابی ملی۔ ہو سکتا ہے میرا پرددھیال یا پرننہیال سنہ 1918 کے فلو کا شکار ہوا ہو۔ میرا ددھیال اور ننہیال پینسِلین کی دریافت سے پہلے اپنا بچپن گزار چکا تھا۔ میرے والدین سنہ 1954 میں پولیو ویکسین کی ایجاد سے پہلے پیدا ہو چکے تھے۔

آج کی ترقی یافیہ اور ترقی پذیر دنیا میں ہمارے کسی غیرمتعدی مرض، مثلاً کینسر، دل کے امراض وغیرہ سے مرنے کا امکان متعدی بیماری کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ وبائی امراض میں کمی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زمین پر زندگی میں بہتری واقع ہوئی ہے۔

مارک لِپسِچ کا تعلق بوسٹن، امریکا، میں واقع ہارورڈ ٹی ایچ چین سکول آف پبلک ہیلتھ سے ہے اور وہ متعدی امراض کے بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ جب میں 2018 میں اپنی کتاب کی تیاری کے سلسلے میں ان سے ملا تو وہ سمجھتے تھے کہ دنیا کے لیے ایک بڑی وبائی آفت کا خطرہ حقیقی ہے۔

انھوں نے مجھے ایک چارٹ دکھایا جس میں 20ویں صدی کے دوران امریکا میں پھیلنے والے وبائی امراض کی تفصیل تھی۔

چارٹ کے مطابق وبائی امراض سے ہلاکتوں میں زبردست کمی واقع ہوئی تھی۔ سنہ 1900 میں وبائی امراض سے ایک لاکھ میں سے آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس صدی کے آخری برسوں میں ایک لاکھ میں صرف ساٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

محض سنہ 1918 میں وبائی فلو اور 1980 کے عشرے میں ایڈز کی وجہ سے وقتی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ لِپسِچ نے بتایا کہ 'متعدی امراض سے ہونے والی ہلاکتوں میں ہر سال ایک فی صد کی کمی واقع ہوتی رہی ہے جو صدی کے اختتام تک جاری رہی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلنے کی وجہ سے قابلِ بندش وبائی امراض کے خلاف جنگ میں دنیا پسپائی اختیار کر رہی ہے معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا

یہ تو تھی اچھی خبر۔ مگر بری خبر یہ ہے کہ کووِڈ نائنٹین نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ وبائی امراض ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ درحقیقت نئے وبائی امراض پیدا ہوگئے ہیں، جیسے سارز، ایچ آئی وی، اور کووِڈ نائنٹین میں گزشتہ صدی کے دوران چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ صرف سنہ 1980 میں پھوٹنے پڑنے والی وبائیں تین گنا ہو چکی تھیں۔

اس اضافے کی کئی وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ پچھلے 50 برس میں دنیا کی آبادی دگنی ہو گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ متعدی امراض کا شکار ہونے اور پھر ان وباؤں کو دوسروں کو منتقل کرنے کے لیے زیادہ لوگ دستیاب ہیں۔ گزشتہ دس ہزار سال کے مقابلے میں آج ہمارے پاس مال مویشی زیادہ ہیں اور وائرس کو انسانوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

جیسا کہ کووِڈ نائنٹین نے ثابت کر دیا ہے کہ مربوط عالمی معیشت وبائی امراض پھیلنے کا ایک سبب بھی ہے، اور سامان کی ترسیل کے طویل اور باہم جڑے ہوئے سلسلے کی وجہ سے نازک بھی، کیونکہ وبائی امراض سے پیدا ہونے والا خلل اس میں بڑی آسانی سے رخنہ پیدا کر سکتا ہے۔

دنیا کے کسی ایک مقام سے دوسرے مقام تک محض بیس گھنٹے کے اندر پہنچنے کی صلاحیت اور وہاں سے جراثیم آلود سامان کے ساتھ کہیں اور سفر کرنے نے وبائی امراض کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ ماضی میں طویل دورانیے کے سفر میں ایسے جراثیم کے ہلاک ہو جانے کا امکان زیادہ رہتا تھا۔

وبائی امراض کے خلاف پیش رفت کے باوجود ہماری ترقی نے ہمیں جراثیم کے مقابلے میں زیادہ کمزور کر دیا ہے، جو انسانوں کے مقابلے میں چار کروڑ گنا تیزی سے نمو پاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption ووہان، چین، میں کووِڈ نائنٹین کے شکار مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں جانے سے پہلے طبی عملہ اپنا حوصلہ قائم رکھنے کے لیے فتح کا نشان بنا رہا ہے

سنہ 1928 میں پینسِلین کی دریافت کے بعد لاکھوں جانیں بچائی گئی ہیں مگر اینٹی بایوٹِکس کے خلاف جراثیم کی مزاحمت بھی روز افزوں بڑھ رہی ہے۔ ڈاکٹر اسے عالمی سطح پر عوامی صحت کے لیے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صرف یورپ میں سنہ 2018 میں تینتیس ہزار افراد ایسی بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے جن کے جراثیم کے خلاف اینٹی بایوٹِکس بے اثر ہو چکی تھیں۔

سنہ 2013 میں عالمی بینک نے تخمینہ لگایا تھا کہ سنہ 1918 کے فلو جیسی کوئی وبا آج کی مربوط عالمی معیشت کو چار ٹریلین یعنی چالیس کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق کووِڈ نائنٹین کی وجہ سے دس کھرب ڈالر سے زیادہ کا نقصان تو اب تک ہو ہی چکا ہے۔

کووِڈ نائنٹین نے چین کے ایک جدید اور گنجان آباد شہر سے نکل کر چندہ ماہ کے اندر دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سائنسدان اس وائرس کو سمجھنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ مگر فوری طور پر اس کی روک تھام کے لیے ہم سوائے اس کے اور کچھ نہ کر سکے کہ عالمی سرمایادارانہ نظام میں معاشی اور معاشرتی سرگرمیوں کو تالا ڈال کر اس وائرس کی ترسیل کو روکنے کی کوشش کریں۔ انٹرنیٹ اور موبائل پر رابطوں اور تفریح کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے تو ہم نے بھی وہ ہی کیا جو وبا کے دنوں میں ہمارے اجداد کرتے تھے۔

حالانکہ کووِڈ 19 جیسی کسی وبا کی پیشگوئی موجود تھے اس کے باوجود ہم نے اس کے تدارک کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

ہمیں مستقبل میں کسی ایسے ہی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ یہ خطرہ حقیقی ہے جس سے ہمیں ہر صورت دوچار ہونا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم صحت کے عالمی اداروں پر زیادہ توجہ دیں، ان کی لیاقت بڑھائیں۔ عالمی ادارۂ صحت کا بجٹ، جو سات ارب اسی کروڑ انسانوں کی صحت کا ذمہ دار ہے، امریکا کے کسی بڑے اسپتال سے بھی کم ہے۔

ہمیں ویکسین تیار کرنے کی استعداد میں اضافہ کرنا ہوگا، اور ادویات بنانے والی کمپنیوں کو باور کرنا ہوگا کہ ان کا سرمایہ وبا کے پہلے ختم ہوجانے کی صورت میں ڈوبے گا نہیں۔

ایک بڑا مسئلہ ہماری یادداشت کا ہے۔ سارز یا اِیبولا جیسی وبا آنے کے بعد سیاستدان وعدے تو بہت کرتے ہیں مگر اس کے بعد بھول جاتے ہیں اور مناسب مالی امداد فراہم نہیں کرتے۔

مجھے جیسے امید سی ہے کہ کووِڈ 19 کے معاملے میں ایسا نہیں ہو گا۔ ہمیں اس وبا کو شکست دینے کے لیے وہ سب کچھ کرنا ہو گا جو ضروری ہے، اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ یہ وبا قصۂ پارینہ ثابت ہو نہ کہ آنے والے واقعات کا پیش خیمہ۔